سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 19

صلى الله سيرة النبي علي 4 جلد 7 سمجھنا چاہئے کیونکہ اسی پس پردہ کو مدنظر رکھ کر آپ کی زندگی کے حالات کی حقیقت کو انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی پیدائش شمسی حساب سے اگست 570ء میں بنتی ہے ۔ آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد رکھا گیا جس کے معنے تعریف کئے گئے کے ہیں ۔ جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت تمام کا تمام عرب سوائے چند مستثنیات کے مشرک تھا ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیم کی نسل میں سے قرار دیتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ ابراہیم مشرک نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ شرک کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ بعض انسان ترقی کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے ایسے قریب ہو گئے ہیں کہ اُن کی شفاعت خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ضرور قبول کی جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود بہت بلند شان والا ہے اُس تک پہنچنا ہر ایک انسان کا کام نہیں ، کامل انسان ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اس لئے عام انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنائیں اور اس وسیلہ کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور مدد حاصل کریں ۔ اس عجیب و غریب عقیدہ کے رو سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موحد مانتے ہوئے اپنے لئے شرک کا جواز بھی پیدا کر لیتے تھے ۔ ابراہیم بڑا پاکباز تھا ۔ وہ خدا کے پاس براہ راست پہنچ سکتا تھا مگر مکہ کے لوگ اس درجہ کے نہیں تھے اس لئے انہیں بعض بڑی ہستیوں کو وسیلہ بنانے کی ضرورت تھی ۔ جس غرض کے حصول کے لئے وہ ان ہستیوں کے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح اُن کو خوش کر کے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنا وسیلہ بنا لیتے تھے۔ اس عقیدہ میں جو نقائص اور بے جوڑ حصے ہیں اُن کے حل کرنے کی طرف اُن کا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا کیونکہ کوئی موحد معلم ان کو نہیں ملا تھا۔ جب شرک کسی قوم میں شروع ہوتا ہے تو پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ ایک سے دو بنتے ہیں اور دو سے تین بنتے ہیں ۔ چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت خانہ کعبہ میں ( جواب مسلمانوں کی مقدس مسجد ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیھما السلام کا بنایا ہوا عبادت خانہ ہے )