سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 18
ة سيرة النبي علي صلى الله 3 جلد 7 صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو اُن کی عمر 21 سال کی تھی اور وہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں لیکن باوجود اس کے اُن پر یہ فلسفہ روشن تھا۔ ایک دفعہ آپ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق تو کچھ فرمائیے تو آپ نے فرمایا گان خُلُقُهُ كُلُّهُ الْقُرْآنُ 1 یعنی آپ کے اخلاق کا کیا پوچھتے ہو جو کچھ آپ کہا کرتے تھے اُنہی باتوں کا قرآن کریم میں حکم ہے اور قرآن کی لفظی تعلیم آپ کے عمل سے جدا گانہ نہیں ہے۔ ہر خلق جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اُس پر آپ کا عمل تھا اور ہر عمل جو آپ کرتے تھے اُسی کی قرآن کریم میں تعلیم ہے۔ یہ کیسی لطیف بات ہے ۔ معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اتنے وسیع اور اتنے اعلیٰ تھے کہ ایک نوجوان لڑکی جو تعلیم یافتہ بھی نہیں تھی اُس کی توجہ کو بھی اس حد تک پھرانے میں کامیاب ہو گئے کہ ہندو، یہودی اور مسیحی فلسفی جس امر کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس امر کی حقیقت کو پاگئیں اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں آپ نے یہ لطیف فلسفہ بیان کر دیا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک راستباز اور مخلص انسان دنیا کو ایک تعلیم دے اور پھر اُس پر عمل نہ کرے یا خود ایک نیکی پر عمل کرے اور دنیا سے اُسے چھپائے اس لئے تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق معلوم کرنے کے لئے کسی تاریخ کی ضرورت نہیں ۔ وہ ایک راستباز اور مخلص انسان تھے، جو کہتے تھے وہ کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہ کہتے تھے۔ ہم نے اُن کو دیکھا اور قرآن کریم کو سمجھ لیا۔ تم جو بعد میں آئے ہو قرآن پڑھو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لو ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - صلى الله محمد ﷺ کے ظہور کے وقت عرب کی حالت بت پرستی رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم جس زمانہ میں پیدا ہوئے اُس زمانہ کے حالات کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کا ایک حصہ ہی