سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 306
سيرة النبي علي صلى الله 291 جلد 7 سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ قرآن کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی ۔ عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے ۔ کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔ کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یا زبر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھا نہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔ یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اس لئے دوسری زبانوں کے آدمی مانا جاتا جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے ان حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اس حرکت سے پڑھ لیتی ہے ۔ مہاجرین و انصار سے حفاظ قرآن ان چار کے سوا مسلمانوں میں اور بھی بعض بڑے بڑے قراء تھے مثلاً زید بن ثابت ابت جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے ۔ ابو زیڈ تھے جن کا نام قیس ابن السکن تھا 358 ۔ یہ انصاری تھے اور بنو نجار قبیلہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہال میں سے تھے۔ اسی طرح ابو درداء