سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 305
سيرة النبي علي صلى الله 290 جلد 7 اور ابی بن کعب مدینہ کے رؤساء میں سے تھے۔ گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیئے تھے۔ حدیث میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ (مِنْ) عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَ سَالِمٌ وَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ 356 - جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ ان چار سے قرآن پڑھیں ۔ عبداللہ بن مسعود ، سالم ، معاذ بن جبل اور ابی ابن کعب ۔ یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا یا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمرؓ نے اُن کو روکا اور کہا کہ اس طرح نہیں اس طرح پڑھنا چاہئے ۔ اس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھایا ہے۔ حضرت عمر اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ بن مسعودؓ پڑھ کر سناؤ ۔ جب اُنہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا يَا رَسُولَ الله! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا ہے ۔ آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے 357۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے تھے۔ قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے کیا مراد ہے یہ جو اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعود پر اعتراض کیا کہ اُنہوں نے اور طرح قرآن پڑھا ہے اس