سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 304

ة سيرة النبي علي صلى الله 289 جلد 7 کمزور تھے۔ چنانچہ امام احمد حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ 354 - يَا رَسُولَ الله! میں قرآن تو پڑھتا ہوں مگر میرا دل اس کو سمجھتا نہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علمی طبقہ ہی قرآن شریف کو یاد کرنے کی کوششیں نہیں کرتا تھا بلکہ عوام الناس بھی قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اسی طرح مسند احمد بن حنبل میں ایک اور حدیث انہی راویوں کی روایت سے درج ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آیا اور اُس نے کہا یا رَسُولَ الله! میرا بیٹا دن کو قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارے لئے ناراضگی کی کون سی وجہ ہے تیرا بیٹا دن کو خدا کا ذکر کرتا ہے اور رات کو بجائے گناہوں میں مشغول ہونے کے آرام سے سورہتا ہے 355 ۔ ان احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ حفظ قرآن کا دستور اتنا عام ہو چکا تھا کہ عامی اور دور دور کے علاقوں کے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرتے تھے۔ (5) چونکہ لوگوں میں حفظ قرآن کریم کا اشتیاق بہت تیز ہو گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔ یہ چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں ۔ پھر اُن کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے ان چار بڑے استادوں کے نام یہ ہیں :۔ (1) عبداللہ بن مسعود (2) سالم مولی ابی حذیفہ (3) معاذ بن جبل (4) ابی بن کعب ۔ ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری ۔ کاموں کے لحاظ سے عبداللہ بن مسعود ایک مزدور تھے۔ سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے ۔ معاذ بن جبل