سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 303

صلى الله سيرة النبي علي 288 جلد 7 علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل ہوتا تو آپ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔ (2) کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ پانچ وقت نماز ادا نہ کرے۔ پانچ وقت کی نمازوں میں یہ فرض ہے کہ قرآن شریف کا کچھ حصہ پڑھا جائے اس لئے ہر مسلمان کو قرآن شریف کے کچھ ٹکڑے یاد کرنے پڑتے ہیں اگر صحابہ میں سے سوسو کو مل کر بھی ایک قرآن یاد ہوتا تب بھی سارے قرآن کے کئی ہزار حفاظ اُن میں موجود تھے۔ (3) اسلام کا سارا قانون قرآن میں ہے اس کی فقہ بھی قرآن میں ہے، اس کا علم الاخلاق بھی قرآن میں ہے، اس کا علم العقائد بھی قرآن میں ہے اور اس کا فلسفہ تعلیم بھی قرآن میں ہے۔ قوم کی ترقی اور قوم بنانے کے لئے ان سب چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سارے امور کے لئے آدمی تیار کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے زمانہ میں ہی قاضی بھی مقرر تھے، علم الاحکام کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، مسائل اعتقادیہ کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے ، مفتیانِ شریعت بھی موجود تھے اور یہ لوگ اپنا کام نہیں کر سکتے تھے جب تک ان کو قرآن حفظ نہ ہو اس لئے ایسے سب لوگوں کو قرآن کریم حفظ کرنا پڑتا تھا ۔ (4) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفظ قرآن کی فضیلت پر بڑا زور دیتے تھے یہاں تک کہ آپ فرماتے تھے جو شخص قرآن کریم کو حفظ کرلے گا قیامت کے دن قرآن اُس کو دوزخ میں جانے سے بچائے گا 353 اور اس میں تو کوئی بھی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ صحابی دیئے تھے جو ہر ثواب کے لئے جان توڑ کوشش کرتے تھے اس لئے جب آپ نے یہ اعلان فرمایا تو کثرت کے ساتھ صحابہؓ نے قرآن شریف کو یاد کرنا شروع کیا حتیٰ کہ ایسے ایسے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے جن کی زبانیں صاف نہیں تھیں اور جن کے علم بہت