سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 307

ة سيرة النبي علي صلى الله 292 جلد 7 انصاری بھی قراء میں سے تھے 359 ۔ پھر حضرت ابوبکر بھی قاری تھے۔ چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع زمانہ سے ہی قرآن شریف حفظ کرتے چلے آرہے تھے ۔ حضرت علی کی نسبت بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ اُنہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معاً بعد شروع کر دیا تھا۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ( حضرت عمرؓ کے لڑکے ) بھی قرآن شریف کے حافظ تھے اور وہ قرآن کریم کے اتنے مشتاق تھے کہ ساری رات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم کر لیتے تھے ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا اِقْرَأْهُ فِی شهر مہینہ میں ایک دفعہ ختم کر لیا کر و 360 ۔ رات میں ایک دفعہ ختم نہ کیا کرو اس سے طبیعت پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے ۔ ابوبکر، عمر، عثمان ، علی ، طلحہ، سعد، ابن مسعود، حذیفہ، سالم، ابوہریرہ، عبداللہ بن سائب ، عبداللہ بن عمرؓ ، عبداللہ بن عباس اور عورتوں میں سے حضرت عائشہ ، حضرت حفصہ اور حضرت اُم سلمہ۔ ان میں سے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔ اور ابن ابی داؤ د کتاب الشریعت میں لکھتے ہیں کہ مہاجرین میں سے تمیم بن اوس الداری اور عقبہ بن عامر کا حافظ ہونا بھی ثابت ہے ۔ اسی طرح بعض مصنفوں نے ثابت کیا ہے کہ مہاجر ہے کہ مہاجرین میں سے عمرو بن العاص اور ابوموسیٰ اشعری بھی حافظ قرآن تھے۔ انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے اُن کے نام یہ ہیں :۔ عبادہ بن صامت، معاد، مجمع بن حارث، فضالہ بن عبید، مسلمہ بن مخلد ابوالدرداء ، ابوزید ، زید بن ثابت ، ابی بن کعب ، سعد بن عبادہ ، ام ورقہ ۔ تاریخ سے