سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 301
له صلى الله سيرة ابي عليه 286 جلد 7 کی طرف سے شور کی آواز آئی ۔ صحابہ جلدی جلدی اپنے گھروں سے نکلے کچھ ادھر اُدھر دوڑنے لگے اور کچھ مسجد میں آکر جمع ہو گئے اور اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ اور ؟ دھر دوڑ لکھے اور بھی مسجد تے ہو ئے اور اس میں بیٹھ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں تو آپ کے حکم پر عمل کریں اور ا اور اگر خطرہ ہو تو اُس کو دور کریں ۔ جب وہ لوگ اس انتظار میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھوڑے پر سوار باہر سے تشریف لا رہے ہیں معلوم ہوا کہ شور کی پہلی آواز پر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل میں اس بات کے دیکھنے کے لئے چلے گئے تھے کہ کوئی خطرہ کی بات تو نہیں ۔ اور آپ نے اس بات کا انتظار نہ کیا کہ صحابہ جمع ہو جائیں تو ان کے ساتھ مل کر باہر جائیں بلکہ اکیلے ہی باہر گئے اور حقیقت حال سے آگاہ ہو کر واپس آئے اور صحابہ کو تسلی دی کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں تم آرام سے اپنے گھروں میں جا کر سور ہو 349۔ کم عقلوں کے ساتھ محبت کا سلوک کم عقلوں کے ساتھ آپ نہایت ہی محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک اعرابی نیا نیا اسلام لایا اور آپ کی مسجد میں بیٹھے بیٹھے اُسے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی وہ اٹھ کر مسجد کے ایک کو نہ میں ہی پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ اُس کو منع کرنے لگے تو آپ نے اُنہیں روک دیا اور فرمایا کہ اس سے اُس کو ضرر پہنچ جائے گا تم ایسا نہ کرو جب یہ پیشاب کر چکے تو یہاں پانی ڈال کر اس جگہ کو دھو دینا 350۔ وفائے عہد کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک حکومت کا وفائے عہد ایک ایلچی آپ کے پاس کوئی پیغام لے کر آیا اور آپ کی صحبت میں کچھ دن رہ کر اسلام کی سچائی کا قائل ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے رہ کر کی کا ہو اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله! میں تو دل سے مسلمان ہو چکا ہوں میں اپنے اسلام کا