سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 300
صلى الله سيرة النبي علي 285 جلد 7 بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف دی ہے؟ فوراً اس کے بچوں کو چھوڑ دو تا کہ اس کی دلجوئی ہو جائے 345 ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ایک دفعہ ہم نے چیونٹیوں کا ایک غار دیکھا اور ہم نے پھونس ڈال کر اُسے جلا دیا۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ ایسا کرنا مناسب نہیں تھا 346 ۔ ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ ایک گدھے کے منہ پر نشان لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا نشان کیوں لگا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا کہ رومی لوگوں میں اعلیٰ گدھوں کی پہچان کے لئے نشان لگایا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا مت کیا کرو۔ منہ جسم کا نازک حصہ ہے اگر نشان لگانا ہی پڑے تو جانور کی پیٹھ پر نشان لگا دیا کر و 347 ۔ چنانچہ اُسی وقت سے مسلمان جانور کی پیٹھ پر نشان لگاتے ہیں اور اب اُن کی دیکھا دیکھی یورپ والے بھی پیٹھ پر ہی نشان لگاتے ہیں ۔ مذہبی رواداری آپ مذہبی رواداری پر نہایت زور دیتے تھے اور خود بھی اعلیٰ درجہ کا نمونہ اس بارہ میں دکھاتے تھے۔ یمن کا ایک عیسائی قبیلہ آپ سے مذہبی تبادلہ خیال کرنے کے لئے آیا ۔ جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی تھے۔ مسجد میں بیٹھ کر گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہو گئی ۔ اس پر اس قافلہ کے پادری نے کہا اب ہماری نماز کا وقت ہے ہم باہر جا کر اپنی نماز ادا کر آئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی اپنی نماز ادا کر لیں ۔ آخر ہماری مسجد خدا کے ذکر ہی کے لئے بنائی گئی ہے 348 ۔ آپ کی بہادری کے کئی واقعات آپ کی سوانح میں بیان ہو چکے ہیں ۔ ایک واقعہ اس جگہ بھی لکھ دیتا ہوں ۔ جب مدینہ میں یہ خبریں مشہور ہونی شروع ہوئیں کہ روما کی حکومت ایک بڑا لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بھجوا رہی ہے تو مسلمان خاص طور پر راتوں کو احتیاط کرتے اور جاگتے رہتے ۔ ایک دفعہ باہر جنگل بہادری