سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 299
سيرة ة النبي علي صلى الله 284 جلد 7 اس لئے روک نہیں رکھنا چاہئے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کو فروخت کریں گے بلکہ حاجت مندوں کو ساتھ کے ساتھ چیزیں دیتے رہنا چاہئے ۔ کو س ۔ مایوسی آپ مایوسی کی روح کے سخت خلاف تھے ۔ فرماتے تھے جو شخص قوم میں مایوسی کا مایوسی کی باتیں کرتا ہے وہ قوم کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوتا ہے 343 کیونکہ بعض ایسی باتوں کے پھیلنے سے قوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور پستی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس طرح فخر اور کبر سے آپ روکتے تھے کہ یہ چیزیں بھی درحقیقت قوم کو پستی کی طرف لے جاتی ہیں آپ کا حکم تھا کہ ان دونوں کے درمیان راستہ ہونا چاہئے ۔ نہ انسان فخر اور کبر کا رستہ اختیار کرے نہ مایوسی اور ناامیدی کا رستہ اختیار کرے بلکہ کام کرے مگر نتیجہ کی امید خدا تعالیٰ پر ہی رکھے ۔ اپنی جماعت کی ترقی کی خواہش اس کے دل میں ہو مگر فخر اور کبر پیدا نہ ہو۔ جانوروں سے حسن سلوک آپ جانوروں تک پر ہم کو سخت نا آپ جانوروں تک پر ظلم کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل میں فرمایا ایک عورت کو اس لئے عذاب ملا کہ اس نے اپنی بلی کو بھوکا مار دیا تھا۔ اسی طرح فرماتے تھے پہلی امتوں میں سے ایک شخص اس لئے بخشا گیا کہ اُس نے ایک پیاسا کتا دیکھا۔ پاس ایک گہرا گڑھا تھا جس میں سے کتا پانی نہیں پی سکتا تھا۔ اُس آدمی نے اپنا بوٹ پاؤں سے کھولا اور گڑھے میں اُس بوٹ کو لڑکا کر اس کے ذریعہ پانی نکالا اور کتے کو پلا دیا۔ اس نیکی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اُس کے تمام گزشتہ گناہوں کو بخش دیا 344 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ سفر پر تھے کہ ہم نے ایک فاختہ کے دو بچے دیکھے۔ بچے ابھی چھوٹے تھے ہم نے وہ بچے پکڑ لئے جب فاختہ واپس آئی تو وہ چاروں طرف گھبرا کر اڑنے لگی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ وہ علیہ وسلم بھی اُس مجلس میں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا اس جانور کو اس کے