سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 298
صلى الله سيرة النبي علي 283 جلد 7 حقارت سے اور نام نہ رکھا کرو اور حسد نہ کیا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھا کرو اور سب کے سب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بندے سمجھو اور اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھو جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے 340 ۔ پھر فرماتے یاد رکھو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ مصیبت ۔ کے وقت اُس کا ساتھ چھوڑتا ہے نہ مال یا علم یا کسی اور چیز کی کمی کی وجہ سے اُس کو حقیر سمجھتا ہے ۔ تقویٰ انسان کے دل سے پیدا ہوتا ہے اور انسان کو گندہ کر دینے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔ اور ہر مسلمان پر اس کے دوسرے مسلمان بھائی کے خون اور اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کرنا حرام ہے اللہ تعالیٰ جسموں کو نہیں دیکھا کرتا نہ صورتوں کو دیکھتا ہے نہ تمہارے اعمال کی ظاہری حالت کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے 341 ۔ سودا سلف کے متعلق دھوکا بازی اور فریب سے نفرت آپ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں دھوکا اور فریب کی کوئی بات نہ پائی جائے ۔ ایک دفعہ آپ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے غلہ کا ایک ڈھیر دیکھا جو نیلام ہو رہا تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ غلہ کے ڈھیر میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ باہر کی طرف سے تو غلہ سوکھا ہوا ہے مگر اندر کی طرف سے گیلا ہے ۔ آپ نے اپنا ہاتھ نکال کر غلہ والے سے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا يَا رَسُولَ الله! بارش کا چھینٹا آگیا تھا جس سے غلہ گیلا ہو گیا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر تم نے گیلا حصہ باہر کیوں نہ رکھا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاتا۔ پھر فرمایا جو شخص دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے وہ جماعت کا مفید وجود نہیں ہو سکتا 342۔ آپ بڑی تاکید سے فرماتے تھے کہ تجارت میں بالکل دھوکا نہیں ہونا چاہئے اور بغیر دیکھے کے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے اور سودے پر سودا نہیں کرنا چاہئے اور سامان کو