سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 297

سيرة النبي علي صلى الله 282 جلد 7 کامیاب نہیں ہو سکا۔ آپ کوئی علاج بتائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک گناہ چھوڑنے کا تم مجھ سے وعدہ کرو دو میں چھڑا دوں گا ۔ اُس نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں فرمائیے کون سا گناہ چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو۔ کچھ دنوں کے بعد وہ آیا اور اُس نے کہا آپ کی ہدایت پر میں نے عمل کیا اور میرے سارے ہی گناہ چھٹ گئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا بتاؤ کیا گزری ؟ اُس نے کہا میرے دل میں ایک دن شراب کا خیال آیا میں شراب پینے کے لئے اٹھا تو مجھے خیال آیا کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے شراب پی ہے تو پہلے میں جھوٹ بول دیا کرتا تھا اور کہہ دیا کرتا تھا۔ کرتا تھا کہ نہیں پی مگر اب میں نے سچ بولنے کا اقرار کیا ہے اگر میں نے کہا کہ شراب پی ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر کہوں گا کہ نہیں پی تو جھوٹ کا ارتکاب کروں گا جس سے بچنے کا میں نے اقرار کیا ہے ۔ چنانچہ میں نے دل میں کہا کہ اس وقت نہیں پیتے پھر پئیں گے ۔ اسی طرح میرے دل میں زنا کا خیال پیدا ہوا اور اس کے متعلق بھی میری اپنے دل سے یہی باتیں ہوئیں کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا ۔ اگر یہ کہوں گا کہ میں نے زنا کیا ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر یہ کہوں گا کہ نہیں کیا تو جھوٹ بولوں گا اور جھوٹ سے بچنے کا میں اقرار کر چکا ہوں ۔ اسی طرح میرے اور میرے دل کے درمیان کئی دن تک یہ بحث و مباحثہ جاری رہا۔ آخر کچھ مدت تک ان دونوں عیبوں سے بچنے کی وجہ سے میرے دل سے ان کی رغبت بھی مٹ گئی اور سچ کے قبول کرنے کی وجہ سے میں باقی عیبوں سے بھی محفوظ ہو گیا 339 ۔ تجس کی ممانعت اور نیک ظنی کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس سے منع فرماتے تھے اور ایک دوسرے پر نیک ظنی کا حکم دیتے رہتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں آپ فرمایا کرتے تھے بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور تجسس نہ کرو اور لوگوں کے