سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 296
ة صلى الله سيرة النبي علي 281 جلد 7 کوئی تعلق نہ ہو اُس میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کیا کرے۔ آپ کا یہ خلق ایسا ہے کہ جس کی نگہداشت کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ ہزاروں ہزار خرابیاں دنیا میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مصیبت زدہ کی مدد کرنے کیلئے تو تیار نہیں ہوتے مگر خواہ مخواہ لوگوں کے معاملات پر اعتراض کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ سیچ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا 336 ۔ آپ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے اور ایسے درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے 337 ۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت صل اللہ علیہ سلم کے پاس ایک قید ہوکر آیا جو سے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔ حضرت عمر سمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ کریں تو اُسے قتل کر دیں۔ جب وہ شخص اٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمر نے کہا يَا رَسُولَ الله! یہ شخص تو واجب القتل تھا۔ آپ نے فرمایا واجب القتل تھا تو تم نے اُسے قتل کیوں نہ کیا۔ اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔ آپ نے فرمایا نبی دھو کے باز نہیں ہوتا۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں منہ سے تو اُس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا 338۔ ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! مجھ میں تین عیب ہیں ۔ جھوٹ ، شراب خوری اور زنا۔ میں نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ عیب کسی طرح مجھ سے دور ہو جائیں مگر میں اپنی کوشش میں