سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 295

سيرة ة النبي علي صلى الله 280 جلد 7 بعض لوگ جو دین کی خدمت کے لئے آپ کے پاس آیا جایا کرتے تھے آپ اُن کے رشتہ داروں کو نصیحت کرتے تھے کہ اُن کا بوجھ برداشت کریں اور اُن کی ن کا بوجھ برداشت کرس اور اُن کی تہ داروں کو صیحت کرتے کہ اُن کا کر یں اور کی ضروریات کا خیال رکھیں ۔ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی مسلمان ہوئے ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگا اور دوسرا اپنے کام کاج میں مشغول رہا۔ کام کرنے والے بھائی نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی شکایت کی کہ یہ نکما بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو ۔ خدا تعالیٰ اسی کے ذریعہ سے تمہیں رزق دیتا ہے اس لئے اس کی خدمت کرو اور اس کو دین کے لئے آزاد چھوڑ 334 ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جا رہے تھے کہ رستہ میں ایک منزل پر پہنچ کر ڈیرے لگائے گئے اور صحابہ میدان میں پھیل گئے تا کہ خیمے لگا ئیں اور دوسرے کام جو کیمپ لگانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں بجالائیں۔ اُنہوں نے سب کام آپس میں تقسیم کر لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کوئی کام نہ لگایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میرے ذمہ کوئی کام نہیں لگایا میں لکڑیاں چنوں گا تا کہ اُن سے کھانا پکایا نا پکایا جاسکے ۔ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله! ہم جو کام کرنے والے موجود ہیں آپ کو کیا ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں ! نہیں ! میرا بھی فرض ہے کہ کام میں حصہ لوں ۔ چنانچہ آپ نے جنگل میں سے لکڑیاں جمع کیں تا کہ صحابہؓ ان ن سے کھانا پکا سکیں 335 ۔ - چشم پوشی آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتے آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسروں کے کاموں پر اعتراض نہ کیا کرو اور ایسے معاملات میں دخل نہ دیا کرو جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اسلام کا بہترین نمونہ یہ ہے کہ جس معاملہ کا اُس سے براہ راست