سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 294

صلى الله سيرة النبي علي 279 کے ارشاد کے ماتحت پھر اُس کی پرورش کرنے لگ گئے 330 ۔ جلد 7 آپ فرمایا کرتے تھے کہ مومن کے لئے تو دنیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور صبر سوائے مومن کے یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ اگر اُسے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے اور اگر اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس طرح بھی خدا تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے 331 ۔ جب آپ کی وفات کا وقت آیا اور آپ بیماری کی تکلیف کی وجہ سے کراہ رہے تھے تو آپ کی بیٹی فاطمہ نے ایک دفعہ بیتاب ہو کر کہا آہ! مجھ سے اپنے باپ کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا صبر کرو آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی 332 ۔ یعنی میری تکالیف اس دنیا کی زندگی تک محدود ہیں ۔ آج میں اپنے رب کے پاس چلا جاؤں گا جس کے بعد میرے لئے تکلیف کی کوئی گھڑی نہیں آئے گی۔ اسی سلسلہ میں یہ واقعہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ وبائی بیماریوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر کو بھاگ جانا نا پسند فرماتے تھے کیونکہ اس طرح ایک علاقہ کی بیماری دوسرے علاقہ میں پھیل جاتی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے اگر ایسی بیماری کے علاقہ میں کوئی شخص صبر سے بیٹھا رہے اور دوسرے علاقوں میں وبا پھیلانے کا موجب نہ بنے تو اگر اُسے موت آئے گی تو وہ شہید ہو گا 333 ۔ تعاون باہمی آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ کو اس بات کی نصیحت فرماتے تھے کہ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کیا کرو۔ چنانچہ اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے آپ نے یہ اصول مقرر کر دیا تھا کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جائے جس کے بدلہ میں اُسے کوئی رقم ادا کرنی پڑے اور وہ اُس کی طاقت سے باہر ہو تو اُس کے محلہ والے یا شہر والے یا قوم والے مل کر اُس کا بدلہ ادا کریں ۔