سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 293

سيرة النبي علي صلى الله 278 جلد 7 صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اُس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا ؟ اُنہوں نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لَا إِلهَ إِلَّا الله تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لا اله الا اللہ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا مگر تو بہ کر چکا تھا۔ حضرت اسامہ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اُس کالا إِلهَ إِلَّا الله تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اسامہ کہتے ہیں اُس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ! میں آج ہی اسلام لایا ہوتا اور یہ حرکت مجھ سے سرزد نہ ہوئی ہوتی 329 ۔ -329 گناہوں کی معافی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا احساس تھا کہ جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ پر اتہام لگایا اور ان انتہام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کو حضرت ابوبکر پال رہے تھے۔ جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا تو حضرت ابوبکر نے غصہ میں اُس شخص کی پرورش بند کر دی جس نے آپ کی بیٹی پر الزام لگایا تھا۔ دنیا کا کون سا شخص اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کر سکتا تھا بہت سے لوگ تو ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں مگر حضرت ابو بکر نے صرف اتنا کیا کہ اُس شخص کی آئندہ پرورش بند کر دی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو سمجھایا اور فرمایا کہ اس شخص سے غلطی ہوئی اور اس نے گناہ کیا مگر آپ کی شان اس سے بالا ہے کہ ایک بندے کے گناہ کی وجہ سے اُس کو اس کے رزق سے محروم کر دیں ۔ چنانچہ حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم