سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 292
سيرة النبي علي صلى الله 277 جلد 7 بات کو دہرایا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو چاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی تشہیر نہ کرے جب تک خدا اس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود ہی گواہی دی ہے اس لئے اب میں مجبور ہوں 327 پھر فرمایا اس شخص نے اپنے آپ پر الزام لگایا ہے اُس عورت نے الزام نہیں لگایا جس کے متعلق یہ زنا کا دعویٰ کرتا ہے اُس عورت سے پوچھو۔ اگر وہ انکار کرے تو اُسے کچھ مت کہو اور صرف اس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو ۔ لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تو رات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔ تو رات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔ جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا لیکن لوگوں نے دوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو نا پسند فر۔ نا پسند فرمایا۔ آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی ۔ جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اس کے بعد اُس کو سنگسار جب رسوا کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہئے تھا 328 ۔ 328۔ آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے ۔ ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہ گئے ہوئے تھے راستہ میں ایک مشرک انہیں ایسا ملا جو اِدھر اُدھر جنگل بیں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ڈالتا۔ اسامہ بن زید نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اٹھائی ۔ جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اُس نے کہا لا إِلهَ إِلَّا الله جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوا ہوں مگر اسامہ نے اُس کے اس قول کی پرواہ نہ کی اور اسے مار ڈالا ۔ جب رسول اللہ