سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 291

صلى الله سيرة النبي علي آپ ننگا کرتا ہے 326 ۔ 276 جلد 7 بعض لوگ نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ کا اظہار تو بہ پیدا کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا اظہار تو بہ پیدا نہیں کرتا گناہ کا اظہار بے حیائی پیدا کرتا ہے۔ گناہ بہر حال برا ہے مگر جو لوگ گناہ کرتے ہیں اور اُن کے دل میں شرم اور ندامت محسوس ہوتی ہے اُن کے لئے تو بہ کا راستہ کھلا رہتا ہے اور تقویٰ اُن کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی نیک موقع ایسا آجاتا ہے کہ تقویٰ غالب آجاتا ہے اور گناہ بھاگ جاتا ہے ۔ مگر جو لوگ اپنے گناہوں کو پھیلاتے اور ان پر فخر کرتے ہیں ان کے دل سے احساس گناہ بھی مٹ جاتا ہے اور جب احساس گناہ بھی مٹ جائے تو پھر تو بہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! میں نے زنا کیا ہے۔ زنا اسلام میں تعزیری جرائم میں سے ہے یعنی اسلامی شریعت جہاں جاری ہو وہاں ایسے شخص کو جس کا زنا اسلامی اصول کے مطابق ثابت ہو جائے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ جب اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف باتوں میں مشغول ہو گئے ۔ در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو یہ بتا رہے تھے کہ جس گناہ پر خدا نے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج تو بہ ہے اس کا علاج اعلان نہیں مگر وہ اس بات کو نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات کو سنا نہیں اور جس طرف آپ کا منہ تھا اُدھر کھڑا ہو گیا اور پھر اُس نے کہايَا رَسُولَ الله ! میں نے زنا کیا ہے ۔ پھر آپ نے دوسری طرف منہ کر لیا۔ پھر بھی وہ نہیں سمجھا اور دوسری طرف آکر اُس نے پھر اپنی بات کو دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اُس کی طرف توجہ نہ کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ پھر وہ شخص اُس طرف آکھڑا ہوا جس طرف آپ کا منہ تھا اور پھر اُس نے چوتھی دفعہ اس