سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 285

ة سيرة النبي علي صلى الله 270 جلد 7 کہ اے ابوذر! جب کبھی شور با پکاؤ تو پانی زیادہ ڈال دیا کرو اور اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھا کر و 307 ۔ یہ مطلب نہیں کہ دوسری چیزیں دینے کی ضرورت نہیں بلکہ عرب بدوی تھے اور اُن کا بہترین کھانا شور با ہوتا تھا آپ نے ہمسایہ کی امداد کے خیال سے اسی کھانے کی نسبت فرمایا کہ اپنے مزے کا خیال نہ کرو اس کا خیال کرو کہ تمہارا ہمسایہ تمہارے کھانے میں شریک ہو سکے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! وہ ہرگز مومن نہیں ، خدا کی قسم ! وہ ہرگز مومن نہیں ، خدا کی قسم ! وہ ہرگز مومن نہیں ، صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله! کون مومن نہیں؟ آپ نے فرمایا وہ جس کا ہمسایہ اُس کے ضرر اور اُس کی بدسلوکی - سے محفوظ نہیں 308 ۔ عورتوں کو بھی آپ نصیحت فرمایا کرتے کہ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھا کرو ۔ ایک دفعہ آپ عورتوں میں وعظ فرما رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اگر بکری کا ایک پایہ بھی کسی کو ملے تو اس میں وہ اپنے ہمسایہ کا حق رکھے 309 ۔ آپ ہمیشہ صحابہؓ کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا ہمسایہ تمہاری دیوار میں میخ وغیرہ گاڑتا ہے یا تمہاری دیوار سے کوئی ایسا کام لیتا ہے جس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں تو اُسے روکا نہ کرو 310 ۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو دکھ نہ دے۔ جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کو دکھ نہ دے اور جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ یا تو نیک بات کہے یا خاموش رہے 311 ۔ ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسن سلوک دنیا میں اکثر لوگ جب بالغ