سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 284
صلى الله سيرة النبي علي 269 جلد 7 عورت کے درمیان ہوتے ہیں اُن کو ٹھیس نہ لگ جائے ۔ پس آپ نے ہدایت فرمادی کہ انسان جب بھی سفر سے واپس آئے دن کے وقت گھر میں داخل ہو اور بیوی بچوں کو پہلے خبر دے کر داخل ہو تا کہ وہ اس کے استقبال کے لئے پوری طرح تیاری کر لیں ۔ وفات یافتوں کے متعلق آپ کا عمل آپ ہمیشہ یہ بھی نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ مرنے والے کو وصیت کر دینی چاہئے تا کہ اس کے رشتہ داروں کو بعد میں تکلیف نہ پہنچے ۔ مرنے والوں کے لئے آپ کی یہ بھی ہدایت تھی کہ جب کوئی شخص شہر میں مر جائے تو لوگوں کو اس کی برائیاں کبھی بیان نہیں کرنی چاہئیں بلکہ اُس کی خیر کی باتیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس کی برائی بیان کرنے میں کوئی فائدہ نہیں لیکن اس کی نیکی بیان کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہوگی 304 ۔ -304 ۔ آپ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جو لوگ مر جائیں اُن کے قرض جلد سے جلد ادا کئے جاویں۔ چنانچہ جب کوئی شخص مر جاتا اور اُس پر قرض ہوتا تو آپ یا تو خود اُس کا قرض ادا کر دیتے 305 اور اگر آپ میں اس کی توفیق نہ ہوتی تو اس کے رشتہ داروں میں تحریک کرتے اور اس کا جنازہ اُس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک اُس کا قرض ادا نہ کر دیا جاتا۔ ہمسایوں سے حسن سلوک ہمسایوں کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت ہی اچھا ہوتا تھا آپ فرمایا کرتے تھے جبریل مجھے بار بار ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسائے کو شاید وارث ہی قرار دے دیا جائے گا 306 ۔ دیا حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے