سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 283

سيرة النبي علي صلى الله 268 جلد 7 که کسی اشد استثنائی صورت میں مرد اپنی عورتوں کو سزا دیتے اُنہوں نے وہی پرانا عربی طریق جاری کر لیا۔ عورتوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آکر شکایت کی تو آپ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا جو لوگ اپنی عورتوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یا انہیں مارتے ہیں میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ وہ خدا کی نظر میں اچھے نہیں سمجھے جاتے 300۔ اس کے بعد عورتوں کے حق قائم ہوئے اور عورت نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے پہلی دفعہ آزادی سے سانس لیا۔ معاویہ بن حیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا يَا رَسُولَ الله! بیوی کا حق ہم پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے وہ اُسے کھلاؤ اور جو خدا تمہیں پہننے کے لئے دے وہ اُسے پہناؤ اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو 301 ۔ آپ کو عورتوں کے جذبات کا اس قدر احساس تھا کہ آپ ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے کہ جو لوگ باہر سفر کے لئے جاتے ہیں اُنہیں جلدی گھر واپس آنا چاہئے تا کہ ان کے بال بچوں کو تکلیف نہ ہو۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص اپنی اُن ضرورتوں کو پورا کر لے جس کے لئے اسے سفر کرنا پڑا تھا تو اُسے چاہیئے اپنے رشتہ داروں کا خیال کر کے جلدی واپس آئے 302 ۔ آپ کا اپنا طریق یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تھے تو دن کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے۔ اگر رات آ جاتی تھی تو شہر کے باہر ہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے اور صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے اور ہمیشہ اپنے اصحاب کو منع فرماتے تھے کہ اس طرح اچانک گھر میں آکر اپنے اہل وعیال کو تنگ نہیں کرنا چاہئے 303 - اس میں آپ کے مد نظر یہ حکمت تھی کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتی ہوتے ہیں مرد کی غیر حاضری میں اگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کی صفائی کا پورا خیال نہ رکھا ہو اور خاوند اچانک گھر میں آ داخل ہو تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ محبت کے جذبات جو مرد