سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 282

سيرة ة النبي علي صلى الله 267 جلد 7 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے سے گر گئے اور بعض مستورات بھی گر گئیں۔ ایک صحابی جن کا اونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرتے ہوئے دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور کود کر یہ کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے يَا رَسُولَ اللہ ! میں مر جاؤں اور آپ بچے رہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں رکاب میں الجھے ہوئے تھے آپ نے جلدی جلدی اپنے آپ کو آزاد کیا اور اُس صحابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا مجھے چھوڑو اور عورتوں کی طرف جاؤ 298 ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اُس وقت سب مسلمانوں کو جمع کر کے جو وصیتیں کیں اُن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ میں تم کو اپنی آخری وصیت یہ کرتا ہوں کہ عورتوں سے ہمیشہ حسنِ سلوک کرتے رہنا۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے جس کے گھر میں لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو تعلیم دلائے اور اُن کی اچھی تربیت کرے خدا تعالیٰ قیامت کے دن اُس پر دوزخ حرام کر دے گا 299 ۔ عربوں میں رواج تھا کہ اگر عورتوں سے کوئی غلطی ہو جاتی تو انہیں مار پیٹ لیا کرتے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں تمہاری لونڈیاں نہیں ان کو مت مارا کرو۔ مگر عورتوں کی چونکہ ابھی تک پوری تربیت نہیں ہوئی تھی اُنہوں نے اس دلیری میں آ کر مردوں کا مقابلہ شروع کر دیا اور گھروں میں فساد ہونے لگا۔ آخر حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے روک دیا اور وہ بڑی بڑی دلیریاں کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں تو ہمیں اجازت ملنی چاہئے کہ ہم اُنہیں مار پیٹ لیا کریں۔ چونکہ ابھی تک عورتوں کے متعلق تفصیل سے احکام نازل نہیں ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی عورت حد سے بڑھتی ہے تو تم اپنے رواج کے مطابق اُسے مار لیا کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے اس کے ۔