سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 281
سيرة النبي علي الله 266 جلد 7 نہیں سمجھایا کرتا تھا کہ تو عائشہ کی نقلیں کرتی ہے حالانکہ عائشہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر پیاری ہے۔ دیکھ آخر تو نے وہی مصیبت سہیڑ لی جس کا مجھے خوف تھا۔ یہ کہہ کر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ کے جسم پر کر تہ نہ تھا اور آپ کے سینہ اور کمر پر چٹائی کے داغ لگے ہوئے تھے میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ! یہ قیصر و کسری کہاں مستحق ہیں اس بات کے کہ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں ملیں مگر وہ تو کس آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کے رسول کو یہ تکلیف ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! یہ درست نہیں اس قسم کی زندگیاں خدا کے رسولوں کی نہیں ہوتیں یہ دنیا دار بادشاہوں کا شغل ہے ۔ پھر میں نے آپ کو سارا وہ واقعہ سنایا جو میری بیوی اور بیٹی کے ساتھ گزرا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری باتیں سن کر ہنس پڑے اور فرمایا عمر ! یہ بات درست نہیں کہ میں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے تو صرف ایک مصلحت کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اپنے گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے 295 ۔ عورتوں کے جذبات کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ نماز میں آپ کو ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھا کرختم کر دی پھر فرمایا ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تھی میں نے کہا اس کی ماں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی چنانچہ میں نے نماز جلدی ختم کر دی تا کہ ماں اپنے بچہ کی خبر گیری کر سکے 296 ۔ جب آپ ایسے سفر پر جاتے جس میں عورتیں بھی ساتھ ہوتیں تو ہمیشہ آہستگی سے چلنے کا حکم دیتے ۔ ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر جبکہ سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اور اونٹوں کی نکیلیں اٹھا لیں آپ نے فرما یادِ فَقًا بِالْقَوَارِيرَ ارے کیا کرتے ہو؟ عورتیں بھی ساتھ ہیں اگر تم اس طرح اونٹ دوڑاؤ گے تو شیشے چکنا چور ہو جائیں گے 297۔ ایک دفعہ جنگ کے میدان میں کسی گڑ بڑ کی وجہ سے سواریاں برک گئیں ۔