سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 280
صلى الله ة سيرة النبي علي 265 جلد 7 ماں کے ورثہ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ماؤں اور بیویوں کو بیٹیوں اور خاوندوں کے ورثہ میں اور بعض صورتوں میں بہنوں کو بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدار میں بہنوں کو بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدا قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے دنیا کے کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے ۔ اسی طرح آپ نے عورت کو اس کے مال کا مستقل مالک قرار دیا ہے خاوند کو حق نہیں کہ خاوند ہونے کی وجہ سے عورت کے مال میں دست اندازی کر سکے۔ عورت اپنے مال کے خرچ کرنے میں پوری مختار ہے ۔ عورتوں سے حسن سلوک میں آپ ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب کے لوگ جو اس بات کے عادی نہ تھے ان کو یہ بات دیکھ کر ٹھوکر لگتی تھی ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بعض دفعہ میری باتوں میں دخل دیتی تو میں اُس کو ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا کہ عرب کے لوگوں نے کبھی عورتوں کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ مردوں کو اُن کے کاموں میں مشورہ دیں۔ اس پر میری بیوی کہا کرتی کہ جاؤ جاؤ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں اور آپ اُن کو کبھی نہیں روکتے تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ اس پر میں اُسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت لاڈلی ہے اُس کا ذکر نہ کرو، باقی رہی تمہاری بیٹی سو اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنی گستاخی کی سزا کسی دن پائے گی ۔ ایک دفعہ جب کسی بات سے ناراض ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ دن آپ گھر سے باہر رہیں گے اور بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے اور مجھے اس کی خبر ملی تو میں نے کہا دیکھو جو میں کہتا تھا وہی ہو گیا۔ میں اپنی بیٹی حفصہ کے گھر میں گیا تو وہ رو رہی تھیں۔ میں نے کہا حفصہ ! کیا ہوا؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ اُنہوں نے کہا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کی وجہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گھر میں نہیں آئیں گے ۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے کہا حفصہ ! میں تجھے پہلے