سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 279
سيرة ة النبي علي صلى الله 264 جلد 7 زمانہ میں ایک شخص کو اُس کی ماں کا طعنہ دیا جو لونڈی تھی اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک کفر کی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ غلام کیا ہیں؟ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری طاقت کا ذریعہ ہیں خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت وہ کچھ عرصہ کے لئے تمہارے قبضہ میں آ جاتے ہیں پس چاہئے کہ جس کا بھائی اُس کی خدمت تلے آجائے وہ جو کچھ خود کھاتا ہے اُسے کھلائے اور جو کچھ خود پہنتا ہے اُسے پہنائے اور تم میں سے کوئی شخص کسی غلام سے ایسا کام نہ لے جس کی اُسے طاقت نہ ہو اور جب تم انہیں کوئی کام بتاؤ تو خود بھی ان کے ساتھ مل کر کام کیا کرو 292 ۔ -292, اسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے جب تمہارا نو کر تمہارے لئے کھانا لائے تو اُس کو اپنے ساتھ بٹھا کر کم سے کم تھوڑا سا کھانا ضرور کھلاؤ کیونکہ اُس نے کھانا پکا کر اپنا حق قائم کر لیا ہے 293 ۔ بنی نوع انسان کی خدمت آپ اُن لوگوں کا خاص خیال رکھتے تھے جو بنی نوع انسان کی خدمت میں اپنا وقت خرچ کرنے والوں کا احترام کرتے تھے۔ جب طی قبیلہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہو کر آئے تو اُن میں حاتم جو عرب کا مشہور سخی گزرا ہے اس کی بیٹی بھی تھی جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ وہ حاتم کی بیٹی ہے تو آپ نے نہایت ہی ادب اور احترام کا معاملہ اُس سے کیا اور اُس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزاؤں کو معاف کر دیا 294 ۔ عورتوں سے حسن سلوک عورتوں سے حسن سلوک کا آپ خاص خیال رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے دنیا میں عورت کے ورثہ کے حق کو قائم کیا۔ چنانچہ قرآن کریم میں لڑکوں اور لڑکیوں کو باپ اور