سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 286

ة سيرة النبي علي صلى الله 271 جلد 7 ہو جاتے ہیں اور بیوی بچوں کے فکر انہیں لگ جاتے ہیں تو ماں باپ سے حسن سلوک میں کمزوری دکھانے لگ جاتے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ اس نقص کو دور کرنے کیلئے ماں صلى الله ۔ رض علی باپ کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو بار بار واضح فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں ۔ اس نے کہا پھر؟ آپ نے فرمایا پھر بھی تیری ماں ۔ اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا اس کے بعد بھی تیری ماں ۔ اُس نے چوتھی دفعہ کہا يَا رَسُولَ الله! اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا پھر تیرا باپ ۔ پھر جو اس کے رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد رشتہ دار ہوں ؟ 312 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے بیویوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہمیشہ اُن کا ادب کرتے تھے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر پر آپ ایک فاتح جرنیل کے کے طور طور پر پر مکہ میں داخل ہوئے تو تو حضرت ابو بکڑا اپنے باپ کو آپ کی ملاقات کے لئے لائے ۔ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا آپ نے ان کو کیوں تکلیف دی میں خود ان کے پاس حاضر ہوتا 313 ۔ آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ سے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے بوڑھے ماں باپ کا زمانہ پائے اور پھر بھی جنت کا مستحق نہ ہو سکے تو وہ بڑا ہی بد بخت ہے 314 ۔ مطلب یہ کہ بوڑھے ماں باپ کی خدمت انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اتنا وارث بنا دیتی ہے کہ جس کو اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کا موقع مل جائے وہ ضرور نیکی میں مستحکم اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔ ایک شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ يَا رَسُولَ الله! يَارَسُول الله ! میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں اُن سے نیک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی