سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 273
صلى الله سيرة النبي علي 258 جلد 7 تو اس کی درخواست قبول نہ کی جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے اور اگر یہ باتیں سنانا چاہے تو اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کی جائے ۔ یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس غریب آدمی کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے کہ ساری دنیا سونے سے بھر دی جائے 274۔ ایک غریب عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دن اُس کو نہ دیکھا تو آپ نے پوچھا وہ عورت نظر نہیں آتی ۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا جب وہ فوت ہو گئی تھی تو تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی کہ میں بھی اُس کے جنازہ میں شامل ہوتا پھر فرما یا شاید تم نے اس کو غریب سمجھ کر حقیر جانا ۔ ایسا کرنا درست نہیں تھا مجھے بتاؤ اس کی قبر کہاں ہے پھر آپ اُس کی قبر پر گئے اور جا کر اُس کے لئے دعا کی 275 ۔ آپ فرمایا کرتے تھے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے سر کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور اُن کے جسموں پر مٹی پڑی ہوتی ہے اگر وہ لوگوں سے ملنے ۔ جائیں تو لوگ اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں لیکن ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو خدا تعالیٰ کو اُن کا اتنا احترام ہوتا ہے کہ وہ ان کی قسم پوری کر کے چھوڑتا -276 ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ غریب صحابہ جو کسی وقت غلام ہوتے تھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوسفیان اُن کے سامنے سے گزرے تو اُنہوں نے اس کےسامنے اسلام کی جیت کا کچھ ذکر کیا۔ حضرت ابوبکر سن رہے تھے انہیں یہ بات بری معلوم ہوئی کہ قریش کے سردار کی ہتک کی گئی ہے اور اُنہوں نے اُن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کیا تم قریش کے سردار اور اُن کے افسر کی اس طرح ہتک کرتے ہو! پھر حضرت ابوبکر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہی بات شکایتاً بیان کی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر ! شاید تم نے اللہ تعالیٰ کے ان