سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 272
صلى الله سيرة النبي علي 257 جلد 7 اور اُس نے آکے شکایت کی کہ دیکھئے ! حضرت ابوبکرؓ نے میرا دل دکھایا ہے اور یہ کہا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔ اس بات کو سن کر میرے دل کو تکلیف پہنچی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو بلا کر اُن سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا يَا رَسُولَ الله! اس شخص نے ابتدا کی تھی اور کہا تھا کہ میں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے ساری دنیا پر فضلیت عطا فرمائی ہے اس پر میں نے کہا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے مجھے موسیٰ پر فضلیت نہ دیا کر و 273۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ اپنے آپ کو موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے بلکہ مطلب یہ تھا کہ یہ فقرہ کہنے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے موسیٰ پر فضلیت عطا فرمائی ہے یہودیوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ غرباء کا خیال اور اُن کے جذبات کا احترام آپ ہمیشہ غرباء کے حالات کو درست رکھنے آ۔ پ کی کوشش رکھتے اور اُن کو سوسائٹی میں مناسب مقام دینے کی سعی فرماتے ۔ ایک دفعہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک امیر آپ کے سامنے سے گزرا۔ آپ نے ایک ساتھی سے دریافت کیا کہ اس شخص کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا یہ معزز اور امیر لوگوں میں سے ہے اگر یہ کسی لڑکی سے نکاح کی خواہش کرے تو اس کی درخواست قبول کی جائے گی اور اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش رہے۔ اس کے بعد ایک اور شخص گزرا جو غریب اور نادار معلوم ہوتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ساتھی سے پوچھا تمہاری اس کے بارہ میں کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! یہ غریب آدمی ہے اور اس لائق ہے کہ اگر یہ کسی کی لڑکی سے نکاح کی درخواست کرے