سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 271

سيرة النبي علي صلى الله 256 جلد 7 یہ واقعہ پہلے سوانح میں آچکا ہے کہ بدر کی جنگ میں جب حضرت عباس قید ہوئے تو ان کے کراہنے سے آپ کو تکلیف محسوس ہوئی لیکن جب صحابہؓ نے آپ کی تکلیف دیکھ کر حضرت عباس کے ہاتھوں کی رسیاں کھول دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہو گئی تو آپ نے فرمایا جیسے میرے رشتہ دار ویسے ہی دوسروں کے رشتہ دار ۔ یا تو میرے چچا عباس کو بھی پھر رسیوں سے باندھ دو یا سارے قیدیوں کی رسیاں کھول دو۔ صحابہ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا احساس تھا اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! ہم پہرہ سختی سے دے لیں گے لیکن سب قیدیوں کی رسیاں ہم کھول دیتے ہیں چنانچہ سب قیدیوں کی رسیاں اُنہوں نے کھول دیں ۔ آپ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہ کو با ہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا ۔ دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ مکہ والوں کو جا کر خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک لڑائی میں مارا گیا۔ جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آیا کہ انہوں نے حرم کے اندر ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں۔ جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا کہ تم ہم سے حرم کے احترام کی امید رکھتے ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیونکہ ممکن ہے اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں اُنہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو اس لئے آپ لوگوں کو ان کا خون بہا دیا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں دستور تھا اُن کے ورثا کو ادا کیا۔ جذبات کا احترام اپنے تو اپنے غیروں کے جذبات کا احترام بھی آپ بہت زیادہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس آیا