سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 270

ة سيرة النبي علي صلى الله 255 جلد 7 قسم ! تو کوڑے کو ہاتھ نہ لگا یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے کود پڑے اور کوڑا اٹھا لیا پھر اپنے ساتھی سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا اگر میں کوڑا تمہیں اٹھانے دیتا تو گو میں نے اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا تھا لیکن اس میں کیا شبہ تھا کہ زبانِ حال سے یہ سوال ہی بن جاتا اور ایسا کرنا مجھے وعدہ خلاف بنا دیتا گو یہ جنگ کا میدان ہے مگر میں اپنا کام خود ہی کروں گا۔ انصاف انصاف اور عدل آپ کے اندر اتنا پایا جاتا تھا کہ جس کی مثال دنیا میں انصاف کہیں نہیں پائی جاتی ۔ عربوں میں لحاظ داری اور سفارشوں کا قبول کرنا ایک عام مرض تھا۔ عرب کا کیا ذکر ہے اس زمانہ کے متمدن ممالک میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بڑے آدمیوں کو سزا دیتے وقت جھجکتے ہیں اور غریبوں کو سزا دیتے وقت نہیں گھبراتے ۔ ایک دفعہ ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا ایک بہت بڑے خاندان کی کسی عورت نے کسی دوسرے کے مال کو ہتھیا لیا تھا۔ جب حقیقت کھل گئی تو عربوں میں بڑا ہیجان پیدا ہو گیا کیونکہ ایک بہت بڑے معزز خاندان کی ہتک ہوتی اُنہیں نظر آئی ۔ انہوں نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ درخواست پیش کریں کہ اس عورت کو معاف کر دیا جائے ۔ اور تو کسی شخص نے جرات نہ کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز اسامہ بن زید کو لوگوں نے چنا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کریں ۔ اسامہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات شروع ہی کی تھی کہ آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا ! اسامہ! یہ کیا کہہ رہے ہو، پہلی تو میں اسی طرح تباہ ہوئیں کہ وہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور میں ایسا ہر گز نہیں کر سکتا ۔ خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرتی تو میں اُسے سزا دیئے بغیر نہ رہتا 272 ۔ ،