سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 274
سيرة النبي علي صلى الله 259 جلد 7 خاص بندوں کو ناراض کر دیا ہے اگر ایسا ہوا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب بھی تم سے ناراض ہو جائے گا ۔ حضرت ابوبکر اسی وقت اٹھے اور اٹھ کر اُن لوگوں کے پاس واپس آئے اور کہا اے میرے بھائیو! کیا میری بات سے تم ناراض ہو گئے ہو؟ اس پر ان غلاموں نے جواب دیا اے ہمارے بھائی ! ہم ناراض نہیں ہوئے خدا آپ کا قصور معاف کرے 277۔ مگر جہاں آپ غرباء کی عزت اور ان کے احترام کو قائم کرتے اور اُن کی ضرورتوں کو پورا فرماتے تھے وہاں آپ اُن کو عزت نفس کا بھی سبق دیتے تھے اور سوال کرنے سے منع فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ ہمیشہ فرماتے تھے کہ مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں یا ایک لقمہ یا دو لقمے تسلی دے دیں ۔ مسکین وہ ہے کہ خواہ کتنی ہی تکلیفوں سے گزرے سوال نہ کرے 278 ۔ آپ اپنی جماعت کو یہ بھی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ ہر وہ دعوت جس میں غرباء کو نہ بلایا جائے وہ بدترین دعوت ہے 279۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں ایک دفعہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اُس وقت ہمارے گھر میں سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ تھا میں نے وہی کھجور اُس کو دے دی ۔ اُس نے وہ کھجور آدھی آدھی کر کے دونوں لڑکیوں کو کھلا دی اور پھر اٹھ کر چلی گئی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غریب کے گھر میں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے خدا تعالیٰ اسے قیامت کے دن عذاب دوزخ سے بچائے گا ۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اُس عورت کو اس فعل کی وجہ سے جنت کا مستحق بنائے گا 280 ۔ اسی طرح ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ایک صحابی سعد جو مالدار تھے وہ بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ظاہر کر رہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ نے یہ بات سنی تو فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں