سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 267

سيرة النبي علي صلى الله 252 جلد 7 سامنے آ جاتیں وہ دوڑ کر اپنے بھتیجے کو بغل میں لے لیتے اور کہتے میرے بچے کا بھی تو خیال کرو میرے بچے کا بھی تو خیال کرو ۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا تھا مگر دیکھنے والے بتاتے کا کرو۔ ایسا ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی شکوہ کیا نہ آپ کے چہرہ پر کبھی ملال ظاہر ہوا نہ اس وجہ سے کبھی چڑ چڑا پن پیدا ہوا نہ اپنے چچیرے بھائیوں سے رقابت پیدا ہوئی 270۔ چنانچہ آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ کس طرح آپ نے بعد کے بدلے ہوئے حالات میں حضرت علیؓ اور حضرت جعفر کو اپنی تربیت میں لے لیا اور ہر طرح سے ان کی بہتری کی تدابیر کیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دنیوی طور پر بھی نہایت ہی تلخ طور پر گزری ہے ۔ پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کی وفات پھر والدہ اور دادا کی یکے بعد دیگرے وفات، پھر جب شادی ہوئی تو آپ کے بچے متواتر فوت ہوتے چلے گئے، اس کے بعد پے درپے آپ کی کئی بیویاں فوت ہوئیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها جیسی باوفا اور خدمت گزار بیوی بھی تھیں مگر آپ نے ان سب مصائب کو خوشی سے برداشت کیا اور ان غموں نے نہ آپ کی کمر توڑی نہ آپ کی خوش مزاجی پر کوئی اثر ڈالا ۔ دل کے زخم کبھی آنکھوں سے نہیں پھوٹے ۔ چہرہ ہر ایک کے لئے بشاش ہی رہا اور شاذ و نادر ہی کسی موقع پر آپ نے اس درد کا اظہار کیا۔ ایک دفعہ ایک عورت جس کا لڑکا فوت ہو گیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا اے عورت! صبر کر خدا کی مشیت ہر ایک پر غالب ہے۔ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی اس نے آگے سے جواب دیا جس طرح میرا بچہ مرا ہے تمہارا بچہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا چیز ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ کہہ کر وہاں سے آگے چل پڑے ایک نہیں میرے سات بچے فوت ہو چکے ہیں 271۔ پس اس قسم کے موقع پر اتنا اظہار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گزشتہ