سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 266

صلى الله سيرة النبي علي 251 جلد 7 ہمارے لئے اس سے زیادہ خوشی کا کیا موجب ہو سکتا ہے اور اُنہوں نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس کر دیا 268 ۔ حضرت خدیجہ کی قربانی کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ آپ دوسری بیویوں کے سامنے اکثر اُن کی نیکی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ ایک دن اسی طرح آپ حضرت عائشہ کے پاس حضرت خدیجہ کی کوئی نیکی بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ نے چڑ کر کہا يَا رَسُولَ الله ! اب اُس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُس سے بہتر جوان اور خوبصورت عورتیں آپ کو دی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے فرمایا عائشہ ! تمہیں معلوم نہیں خدیجہ نے میری کس قدر خدمت کی ہے 269 ۔ اخلاق فاضلہ آپ کی طبیعت نہایت ہی سادہ تھی کسی دکھ پر گھبراتے نہیں تھے اور کبھی کسی خواہش سے حد سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے سے تھے۔ سوانح میں بتایا جا چکا ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد اور بچپن میں ہی آپ کی والدہ فوت ہو گئی تھیں ۔ ابتدائی آٹھ سال آپ نے اپنے دادا کی نگرانی میں گزارے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے چا ابو طالب کی ولایت میں پرورش پائی ۔ چچا کا خونی رشتہ بھی تھا اور اُن کے والد نے بھی مرتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص طور پر وصیت فرمائی تھی اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر محبت بھی رکھتے تھے اور آپ کا خیال بھی رکھتے تھے لیکن بچی میں نہ وہ شفقت کا مادہ تھا نہ خاندانی ذمہ داریوں کا احساس ۔ جب گھر میں کوئی چیز آتی تو بسا اوقات وہ اپنے بچوں کو پہلے دیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھتیں ۔ ابو طالب گھر میں آتے تو بجائے اس کے کہ اپنے چھوٹے بھتیجے کو روتا ہوا یا گلہ کرتا ہوا پاتے وہ دیکھتے کہ اُن کے بچے تو کوئی چیز کھا رہے ہیں لیکن اُن کا چھوٹا سا کا سا بھتیجا کوہ وقار بنا ایک طرف بیٹھا ہے۔ چچا کی محبت اور خاندانی ذمہ داریاں اُن کے