سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 265
صلى الله سيرة النبي علي 250 جلد 7 تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو۔ حضرت عائشہ نے فرمایا آپ کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو کو پ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو دو اور کوئی قسم کھانے کا معاملہ آ جائے تو تم ہمیشہ یوں کہتی ہو محمد کے رب کی قسم ! بات یوں ہے، اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور تمہیں قسم کھانے کی ضرورت پیش 66 آجائے تو تم کہا کرتی ہو ابراہیم کے رب کی قسم ! بات یوں ہے ۔ حضرت عائشہ یہ بات سن کو ہنس پڑیں اور آپ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بات کو ٹھیک سمجھا ہے 266۔ حضرت خدیجہ جو آپ کی بڑی بیوی تھیں اور جنہوں نے آپ کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی تھیں اُن کی وفات کے بعد آپ کی شادی میں جوان بیویاں آئیں لیکن اس کے باوجود آپ نے حضرت خدیجہ کے تعلق کو نہ بھلایا۔ حضرت خدیجہ کی سہیلیاں جب بھی آتیں آپ اُن کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے 267 - حضرت خدیجہ کی بنی ہوئی کوئی چیز آپ کے سامنے آ جاتی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ بدر کی جنگ میں جب آپ کے ایک داماد بھی قید ہو کر آئے تو آزادی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے کوئی مال اُن کے پاس نہیں تھا۔ اُن کی بیوی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے جب دیکھا کہ میرے خاوند کے بچانے کے لئے اور کوئی مال نہیں تو اپنی والدہ کی آخری یادگار ایک ہار اُن کے پاس تھا وہ اُنہوں نے اپنے خاوند کے فدیہ کے طور پر مدینہ بھجوا دیا۔ جب وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اُسے پہچان لیا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے صحابہؓ سے فرمایا میں آپ لوگوں کو حکم تو نہیں دیتا کیونکہ مجھے ایسا حکم دینے کا کوئی حق نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ہار زینب کے پاس اُس کی ماں کی آخری یادگار ہے اگر آپ خوشی سے ایسا کر سکتے ہوں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ بیٹی کو اُس کی ماں کی آخری یادگار سے محروم نہ کیا جائے ۔ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله !