سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 264

ة سيرة النبي علي صلى الله 249 جلد 7 علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ آپ کے سامنے دو راستے کھلے ہوں تو آپ نے ان دونوں رستوں میں سے جو آسان رستہ ہو اُسے اختیار نہ کیا ہو بشر طیکہ اس آسان راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے ۔ اگر گناہ کا کوئی شائبہ پایا جاتا تو آپ اس راستہ سے تمام انسانوں سے زیادہ دور بھاگتے تھے۔ یہ کیسا لطیف اور کیسا اعلیٰ درجہ کا چلن ہے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے لوگ کس طرح بلا وجہ اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالتے ہیں ۔ ان کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی بے فائدہ کام نہیں کیا جاتا۔ اُن کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہوتا ہے۔ اُن کی اصل نیکی چونکہ بہت کم ہوتی ہے وہ جھوٹی نیکیوں سے لوگوں کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں اور اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور حقیقی نیکی کا حصول تھا۔ آپ کو ایسی تصنع اور بناو پ کو ایسی تصنع اور بناوٹی نیکیوں کی کیا ضرورت تھی ۔ اگر دنیا آپ کو بد بجھتی تو بھی اور اگر آپ کو نیک سمجھتی تو بھی آپ کے لئے ایک سی بات تھی ۔ آپ تو صرف یہ دیکھتے تھے کہ میرا خدا مجھے کیا سمجھتا ہے اور میرا اپنا نفس مجھے کیسا پاتا ہے۔ خدا اور اپنے نفس کی شہادت کے بعد اگر بنی نوع انسان بھی سچی شہادت دیتے تو اُن کے شکر گزار ہوتے تھے اور اگر وہ کج آنکھوں سے دیکھتے تو آپ اُن کی بینائی کی کمی پر افسوس کرتے مگر اُن کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے۔ رسول کریم ﷺ کا بنی نوع انسان سے معاملہ بیویوں کے حق میں آپ کا وسام معاملہ نہایت ہی مشفقانہ اور عادلانہ تھا۔ بعض دفعہ آپ کی بیویاں آپ سے سختی بھی کر لیتی تھیں مگر آپ خاموشی سے ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ ایک دن آپ نے حضرت عائشہ سے کہا اے عائشہ ! جب