سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 268
ة سيرة النبي علي صلى الله 253 جلد 7 مصائب پر کبھی کر دیتے تھے ورنہ بنی نوع انسان کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی نہ آپ کی بشاشت میں کوئی فرق آیا۔ میں تحمل تحمل آپ میں اس قدر تھا کہ اُس زمانہ میں بھی کہ آپ کو خدا تعالٰی نے بادشاہت عطا فرما دی تھی آپ ہر ایک کی بات سنتے ۔ اگر وہ سختی بھی کرتا ۔ تو آپ خاموش ہو جاتے اور کبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہ دیتے ۔ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کی بجائے آپ کے روحانی درجہ سے پکارتے تھے یعنی يَا رَسُولَ اللهِ کہہ کر بلاتے تھے اور غیر مذاہب کے لوگ ایشیائی دستور کے مطابق آپ کا ادب اور احترام اس طرح کرتے تھے کہ بجائے آپ کو محمد کہہ کر بلانے کے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی ( ابو القاسم کے معنی ہیں قاسم کا باپ ۔ قاسم آپ کے ایک بیٹے کا نام تھا ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے آپ سے آکر بحث شروع کر دی۔ بحث کے دوران میں وہ بار بار کہتا تھا اے محمد ! بات یوں ہے اے محمد ! بات یوں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی انقباض اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے مگر صحابہ اُس کی یہ گستاخی دیکھ کر بیتاب ہو رہے تھے۔ آخر ایک صحابی سے نہ رہا گیا اور اُس نے یہودی سے کہا کہ خبردار ! آپ کا نام لے کر بات نہ کرو تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم سے کم ابوالقاسم کہو ۔ یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو ان کے ماں باپ نے ان کا رکھا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور اپنے صحابہؓ سے کہا دیکھو! یہ ٹھیک کہتا ہے۔ میرے ماں باپ نے میرا نام محمد ہی رکھا تھا جو نام یہ لینا چاہتا ہے اسے لینے دو اور اس پر غصہ کا اظہار نہ کرو۔ آپ جب باہر کام کے لئے نکلتے تو بعض لوگ آپ کا رستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے۔ جب تک وہ لوگ اپنی ضرورتیں بیان نہ کر لیتے آپ کھڑے رہتے جب وہ بات ختم کر لیتے تو آپ آگے چل