سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 257

ة سيرة النبي علي صلى الله 242 جلد 7 کو مسجد بنا لیا ہے 249 ۔ یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور اُن سے دعائیں کرتے ہیں ۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا ہی فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعاؤں کی مستحق ہو گی بلکہ میں اس سے کلی طور پر بیزار ہوں گا ۔ خدا تعالیٰ کے لئے آپ کی غیرت کا ذکر آپ کی زندگی کے تاریخی واقعات میں آچکا ہے۔ جب مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چچا ابو طالب نے بھی اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے اتنی بات بھی نہ مانی تو میری قوم اگر میں نے تمھارا ساتھ نہ چھوڑا تو مجھے بھی چھوڑ دے گی تو آپ نے فرمایا اے چا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کو پھیلانے سے نہیں رک سکتا 250 ۔ اسی طرح اُحد کے موقع پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے ساز وسامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا ہے جب ابوسفیان نے کہا اُعْلُ هُبَل ، اُعْلُ هُبَل یعنی ہبل کی شان بلند ہو، یعنی ہبل کی شان بلند ہو تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھپے کھڑے تھے اور اس چھپنے ہی میں اُن کی خیر تھی حکم دیا کہ جواب دو اللهُ أَعْلَى وَاجَلُّ اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ 251 اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔ اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے لئے جو غیرت تھی اُس کی ایک اور عظیم الشان مثال بھی آپ کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسلام سے پہلے عام طور پر مختلف مذاہب میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انبیاء کی خوشی اور غم پر زمین اور آسمان میں تغیر ظاہر ہوتے ہیں اور اجرام فلکی ان کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ کسی نبی کے متعلق یہ آتا تھا