سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 256
ة سيرة النبي علي صلى الله 241 جلد 7 میں ہیں تو بیتاب ہو کر نماز پڑھنے والوں نے تالیاں پیٹنی شروع کر دیں جس سے ایک طرف تو یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بے انتہاء خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ابوبکر کو توجہ دلانا مطلوب تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوئی اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے ہیں۔ حضرت ابوبکر پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امام کی جگہ چھوڑ دی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر ! جب میں نے تم کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تم پیچھے کیوں ہٹ گئے ؟ ابوبکر نے کہا يَا رَسُولَ الله! اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابوقحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے ۔ پھر آپ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا غرض تھی ۔ خدا کے ذکر کے وقت میں تالیوں کا پیٹنا تو نا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اُس کی طرف توجہ پھرانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں پیٹنے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔ جب تم ایسا کرو گے تو خود بخود دوسروں کی توجہ اس واقعہ کی طرف پھر جائے گی 247 ۔ مگر اس کے ساتھ ہی آپ تکلف کی عبادت بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ گھر میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رستی لٹکی ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا یہ رہی کیوں بندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت زینب کی رہتی ہے جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اس رسی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ رسی کھول دو۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اُس کے دل میں بشاشت رہے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے اس قسم کی تکلف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی 248۔ شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کے وقت جبکہ آپ جان کندن کی تکلیف میں مبتلا تھے آپ کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے خدا ان یہود اور نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں