سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 255
صلى الله سيرة النبي علي 240 جلد 7 آیات مجھے پڑھ کر سناؤ۔ میں نے اس کے جواب میں کہا يَا رَسُولَ الله! قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں ۔ اس پر میں نے سورۃ نساء پڑھ کر سنانی شروع کی ۔ جب پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا 244 ۔ یعنی اُس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بس کرو۔ بس کرو میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ کر کے آنسو بہہ رہے تھے 245 ۔ صلى الله وا نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اور لیٹ کر پڑھ لینے تک کی بھی اجازت ہوتی ہے آپ سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے آتے ۔ ایک دن آپ نماز کے لئے نہ آ سکے تو حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا لیکن اتنے میں طبیعت میں کچھ سہولت معلوم ہوئی تو فوراً دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل پڑے مگر کمزوری کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے چلے جاتے تھے 246۔ دنیا میں خوشنودی اور توجہ دلانے کے لئے تالیاں پیٹی جاتی ہیں عربوں میں بھی یہی رواج تھا تھا مگر آپ کو خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر اتنا پسند تھا کہ اس غرض کے لئے بھی ذکر الہی ہی استعمال کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔ آپ نے فرمایا ابوبکر ! نماز پڑھا دیں ۔ اتنے میں آپ کام سے فارغ ہو گئے اور فوراً مسجد کی طرف چل پڑے ۔ جب آپ مسجد میں پہنچے تو ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ مسجد