سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 258

سيرة النبي علي صلى الله 243 جلد 7 کہ اُس نے سورج کو کہا ٹھہر جا اور وہ ٹھہر گیا۔ کسی کے متعلق یہ آتا تھا کہ اُس نے چاند کی گردش کو روک دیا اور کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے پانی کے بہاؤ کو بند کر دیا۔ مگر نے اس قسم کے خیالات کی غلطی کو ظاہر کیا اور یہ بتایا کہ درحقیقت یہ استعارے اسلام ہیں جن سے لوگ بجائے فائدہ اٹھانے کے الٹا غلطیوں اور وہموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن باوجود ان تشریحات کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات کا اثر باقی رہ گیا تھا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے اکلوتے صاحبزادے ابراہیم اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اُس دن سورج کو بھی گرہن لگ گیا اُس وقت چند ایسے ہی لوگوں نے مدینہ میں یہ مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خوش نہ ہوئے آپ خاموش بھی نہ رہے بلکہ بڑی سختی سے آپ نے اس کی تردید کی اور فرمایا چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے رسورج تو مقرر کردہ قانون کو ظاہر کرنے والی ہستیاں ہیں ان کا کسی بڑے یا چھوٹے انسان کی انون کو ظاہر کی۔ موت یا زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے 252 ۔ جب کوئی شخص عرب کے محاورہ کے مطابق یہ کہہ دیتا کہ فلاں ستارہ کے فلاں برج میں ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ فرماتے اے لوگو! خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔ بارشیں وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہوتی ہیں کسی دیوی دیوتا کی یا کسی اور روحانی طاقت کی مہربانی اور بخشش کے ساتھ نازل نہیں ہوا کرتیں 253 ۔ خدا تعالیٰ پر توکل خدا تعالیٰ پر توکل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلے پا کر آپ پر تلوار اٹھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے