سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 252
سيرة النبي علي صلى الله 237 جلد 7 ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا ۔ آپ ریشمی کپڑا کبھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دیتے تھے۔ بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوائی تھی مگر آپ نے ارشاد فرمایا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ نے میری امت کے مردوں کے لئے پہننا منع فرمایا ہے۔ عورتوں کو بیشک ریشمی کپڑے اور زیور پہننے کی اجازت تھی اس بارہ میں آپ نصیحت کرتے رہتے تھے کہ غلو نہ کیا جائے ۔ ایک دفعہ غرباء کے لئے آپ نے چندہ کیا۔ ایک عورت نے ایک کڑا اتار کر آپ کے آگے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا کیا دوسرا ہاتھ دوزخ سے بچنے کا مستحق نہیں؟ اُس عورت نے دوسرا کڑا اتار کر بھی غرباء کے لئے دے دیا۔ آپ کی بیویوں کے زیورات نہ ہونے کے برابر تھے ۔ صحابیات بھی آپ کی تعلیم پر عمل کر کے زیور بنانے سے احتراز کرتی تھیں ۔ آپ قرآنی تعلیم کے مطابق فرماتے تھے کہ مال کا جمع کر رکھنا غریبوں کے حقوق تلف کر دیتا ہے اس لئے سونے چاندی کو کسی صورت میں گھروں میں جمع کر لینا قوم کی اقتصادی حالت کو تباہ کرنے والا ہے اور گناہ ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے آپ کو تحریک کی کہ اب بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف سے سفیر آنے لگ گئے ہیں آپ ایک قیمتی جبہ لے لیں اور ایسے موقعوں پر استعمال فرمایا کریں ۔ آپ حضرت عمرؓ کی اس بات کو سن کر بہت خفا ہوئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کے لئے پیدا نہیں کیا۔ یہ مداہنت کی باتیں ہی ۔ ہمارا جیسا لباس ہے ہم اس کے ساتھ دنیا کو ملیں گے۔ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک ریشمی جنبہ لایا گیا تو آپ نے حضرت عمرؓ کو تحفہ کے طور پر دے دیا۔ دوسرے دن آپ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اس کو پہنے پھر رہے ہیں۔ آپ نے اس پر نار پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جب حضرت عمرؓ نے کہا يَا رَسُولَ الله!