سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 253

ة سيرة النبي علي صلى الله 238 جلد 7 آپ ہی نے تو تحفہ دیا تھا تو آپ نے فرمایا ہر چیز اپنے ہی استعمال کے لئے تو نہیں ہوتی ۔ یعنی یہ جبہ چونکہ ریشم کا تھا آپ کو چاہئے تھا کہ یہ اپنی بیوی کو دے دیتے یا اپنی کا تھا کو بیٹی کو دے دیتے یا کسی اور استعمال میں لے آتے۔ اس کو اپنے لباس کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں تھا 239۔ بستر میں سادگی آپ کا بستر بھی نہایت سادہ ہوتا تھا۔ بالعموم ایک چھڑا یا اونٹ کے بالوں کا ایک کپڑا ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمارا بستر اتنا چھوٹا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عبادت کے لئے اٹھتے تو میں ایک طرف ہو کر لیٹ جاتی تھی اور بوجہ اس کے کہ بستر چھوٹا ہوتا تھا جب آپ عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے تو میں ٹانگیں لمبی کر لیا کرتی اور جب آپ سجدہ کرتے تو میں ٹانگیں سمیٹ لیا کرتی 240 ۔ مکان اور رہائش میں سادگی رہائشی مکان کے متعلق بھی آپ سادگی کو پسند کرتے تھے۔ بالعموم آپ کے گھروں میں ایک ایک کمرہ ہوتا تھا اور چھوٹا سا صحن ۔ اس کمرہ میں ایک رسی بندھی ہوئی ہوتی تھی جس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں آپ اپنے ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ چار پائی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ زمین پر ہی بستر بچھا کر سوتے تھے۔ آپ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہ نے آپ کی وفات کے بعد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا یہاں تک کہ جس دن آپ کی وفات ہوئی اُس دن بھی ہمارے گھر میں سوائے کھجور اور پانی کے کھانے کیلئے اور کچھ نہیں تھا 241 ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدا تعالیٰ سے محبت اور اس کی عبادت اور ایک نیا ہی میں کوئی ساری زندگی عشق الہی ہوئی نظر آتی ہے باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے دن اور رات آپ عبادت