سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 251
صلى الله سيرة النبي علي 236 جلد 7 تھے ۔ پانی پیتے وقت درمیان میں تین دفعہ سانس لیتے تھے ۔ اس میں ایک طبی حکمت ہے۔ پانی اگر یکدم پیا جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے ۔ کھانے کے متعلق آپ کا اصول یہ تھا کہ جو چیزیں پاکیزہ اور طیب ہوں وہ کھائیں ۔ مگر ایسی طرز پر نہیں کہ غریبوں کا حق مارا جائے یا انسان کو تعیش کی عادت پڑ جائے ۔ چنانچہ عام طور پر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی لیکن اگر کوئی شخص کوئی اچھی چیز بطور تحفہ لے آتا تھا تو آپ اس کے کھانے سے انکار نہ کرتے مگر یوں اپنے کھانے پینے کے لئے اچھے کھانے کی تلاش آپ کبھی نہیں کرتے تھے۔ شہد آپ کو پسند تھا اسی طرح کھجور بھی۔ آپ فرماتے تھے کھجور اور مومن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھلکا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کارآمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکار نہیں ۔ مومن کامل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے 237۔ لباس اور زیور میں سادگی اور تقویٰ لباس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کو پسند فرماتے تھے آپ کا عام لباس کرتہ اور تہہ بند یا کرتہ اور پاجامہ ہوتا تھا۔ آپ اپنا تہہ بند یا پاجامہ ٹخنوں سے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے رکھتے تھے۔ گھٹنوں یا گھٹنوں سے او پر جسم کے ننگے ہو جانے کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے سوائے مجبوری کے۔ ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے ۔ نہ انسانی لباس میں اور نہ پردوں وغیرہ کی صورت میں خصوصاً بڑی تصویریں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اتروا دیا 238 ۔ ہاں چھوٹی چھوٹی تصاویر جس کپڑے پر بنی ہوئی