سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 250

صلى الله سيرة ة النبي علي 235 جلد 7 مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا ابو ہریرہ ! بھوکے ہو؟ میں نے کہا ہاں يَا رَسُولَ الله ! بھوکا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے گھر میں بھی کھانے کو کچھ نہیں تھا ابھی ایک شخص نے دودھ کا پیالہ بھجوایا ہے ۔ تم مسجد میں جاؤ اور دیکھو کہ شاید ہماری تمہاری طرح کے کوئی اور بھی مسلمان ہوں جن کو کھانے کی احتیاج ہو۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے دل میں کہا میں تو اتنا بھوکا ہوں کہ اکیلا ہی اس پیالے کو پی جاؤں گا۔ اب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آدمی بھی بلانے کو کہا ہے تو پھر میرا حصہ تو بہت تھوڑا رہ جائے گا ۔ مگر بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا مسجد کے اندر گئے تو دیکھا کہ چھ آدمی اور بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اُن کو بھی ساتھ لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے پاس آئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دودھ کا پیالہ اُن نئے آنے والے چھ آدمیوں میں سے کسی کے ہاتھ میں دے میں دے دیا اور کہا اس کو پی جاؤ ۔ جب اس نے دودھ پی کر پیالہ منہ سے الگ کیا تو آپ نے اصرار کیا کہ پھر پیو۔ تیسری دفعہ اصرار کر کے اس کو دودھ پلایا۔ اس طرح چھٹیوں آدمیوں کو آپ نے باری باری پلایا۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہر بار میں کہتا تھا کہ اب میں مرا میرا حصہ کیا بچے گا لیکن جب وہ چھٹیوں پی چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ میرے ہاتھ میں دیا۔ میں نے دیکھا کہ ابھی پیالہ میں بہت دودھ موجود تھا جب میں نے دودھ پیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اصرار کر کے تین دفعہ دودھ پلایا۔ پھر میرا بچا ہوا دودھ خود پیا اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے دروازہ بند کر لیا 236 ۔ دودھ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ کو سب کے آخر میں دودھ یہی سبق دینے کے لئے دیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے فاقہ سے بیٹھ رہنا چاہئے تھا اور اشارہ بھی سوال نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آپ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے تھے اور پانی بھی دائیں ہاتھ سے پیتے