سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 249

سيرة النبي علي صلى الله 234 جلد 7 آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دو اور فرماتے تھے ایک انسان کا کھانا دو انسانوں کے لئے کافی ہونا چاہئے 233 ۔ اور فرماتے کا دو کے لئے ہونا جب کبھی آپ کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو 234 ۔ اسی طرح اپنے ہمسایوں کے گھروں میں آپ اکثر ہد یہ بھجواتے رہتے تھے 235۔ آپ اپنے مسکین صحابہؓ کی شکلوں سے ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھوکا تو نہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کئی دن فاقہ سے رہے۔ ایک دن جب سات وقت فاقہ سے گزر گئے تو وہ بے تاب ہو کر مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اتفاقاً حضرت ابوبکر وہاں سے گزرے تو اُنہوں نے ان سے ایک ایسی آیت کا مطلب پوچھا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔ حضرت ابوبکر نے ان کی بات سے یہ سمجھا کہ شاید اس آیت کے معنی ان کو معلوم نہیں اور وہ اس آیت کے معنی بیان کر کے آگے چل دیئے ۔ حضرت ابو ہریرہ جب لوگوں کے سامنے یہ روایت بیان کرتے تو غصہ سے کہا کرتے کہ کیا ابوبکر مجھ سے زیادہ قرآن جانتا تھا ! میں نے تو اس لئے آیت پوچھی تھی کہ ان کو اس آیت کے مضمون کا خیال آجائے اور مجھے کھانا کھلا دیں ۔ اتنے میں حضرت عمرؓ وہاں سے گزرے۔ ابوہریرہ کہتے ہیں میں نے ان سے بھی اس آیت کا مفہوم پوچھا۔ حضرت عمر نے بھی اس آیت کا مطلب بیان کر دیا اور آگے چل دیئے ۔ صحابہ سوال کو سخت نا پسند کرتے تھے ۔ جب ابو ہریرہ نے دیکھا کہ بے مانگے کھانا ملنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ کہتے ہیں میں بالکل نڈھال ہو کر گرنے لگا کیونکہ اب زیادہ صبر کی مجھ میں طاقت نہیں تھی مگر میں نے ابھی دروازہ سے منہ نہیں موڑا تھا کہ میرے کان میں ایک نہایت ہی محبت بھری آواز آئی اور کوئی مجھے بلا رہا تھا ۔ ابو ہریرہ ! ابو ہریرہ ! میں نے منہ موڑا تو تھا۔ ہریرہ! ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی کھڑکی کھولے کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے اور