سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 248
صلى الله سيرة النبي علي تک رہی 229۔ 233 جلد 7 کھانے کے متعلق آپ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے کہ کوئی شخص بغیر نے کے متعلق کا طور پر رکھتے تھے بلائے کسی دعوت کے موقع پر دوسرے کے گھر کھانا کھانے کے لئے نہ چلا جائے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کی دعوت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ چار آدمی اپنے ساتھ اور بھی لیتے آئیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے گھر کے دروازہ پر پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ ایک پانچواں شخص بھی آپ کے ساتھ ہے۔ جب گھر والا باہر نکلا تو آپ نے اُس سے کہا آپ نے ہمیں پانچ آدمیوں کو دعوت کیلئے بلایا تھا آپ چاہیں تو اس کو بھی اجازت دے دیں اور چاہیں تو اس کو رخصت کر دیں ۔ گھر والے نے کہا نہیں میں ان کی بھی دعوت کرتا ہوں یہ بھی اندر آجائیں 230۔ تے تھے اور جب آپ کھانا کھاتے تو ہمیشہ بِسمِ اللهِ کہ کر کھانا شروع کیا کرتے جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو ان الفاظ میں خدا تعالیٰ کی تعریف فرماتے الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكاً فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٌّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنى عَنْهُ رَبَّنَا 231 - یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہمیں کھانا عطا کیا۔ بہت بہت تعریف ، ہر قسم کی ملونی سے خالی تعریف، بڑھتی رہنے والی تعریف ۔ ایسی تعریف نہیں جسے کر کے انسان سمجھے کہ بس میں تعریف کافی کر چکا بلکہ یہ سمجھے کہ میں نے تعریف کرنے کا حق ادا نہیں کیا اور کبھی تعریف بس نہ کرے۔ اور کبھی میرے دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا کام بھی ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں یا جو تعریف کا مستحق نہیں ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں ایسا ہی بنا دے۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کبھی ان الفاظ میں دعا کرتے تھے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِي وَلا مَكْفُورٍ 232 یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی ۔ ہمارا دل اُس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اُس کی کبھی ناشکری نہ کریں ۔