سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 247
صلى الله سيرة النبي علي 232 جلد 7 فرماتے تھے۔ جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا آپ ایسا کھانا کھا کر پکانے والے کو دل شکنی سے بچانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اگر بالکل ہی نا قابل برداشت ہوتا تو آپ صرف ہاتھ کھینچ لیتے تھے اور یہ ظاہر نہیں کرتے تھے کہ مجھے اس کھانے سے تکلیف پہنچتی -225 جب آپ کھانا کھانے لگتے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے اور فرماتے مجھے یہ نہیں کہ بعض لوگ ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہیں گویا وہ کھانے سے شکرانہ رویہ : مستغنی ہیں 226 ۔ جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو اپنے صحابہ میں بانٹ کر کھاتے ۔ چنانچہ آپ کے پاس ایک دفعہ کچھ کھجوریں آئیں آپ نے صحابہؓ کا اندازہ لگایا تو سات سات کھجوریں فی کس آتی تھیں ۔ اس پر آپ نے سات سات کھجوریں تمام صحابہ میں بانٹ دیں 227۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی بھی کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی 228۔ ایک دفعہ آپ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منا رہے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اُن لوگوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کر دیا اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو اس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھو کے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں ۔ ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن متواتر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور یہی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات