سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 243
صلى الله سيرة النبي علي شاعر تھے یہ شعر کہا :۔ 228 جلد 7 كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ 215 اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہوگئیں ۔ اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے، میرا باپ مرے، میرا بھائی مرے، میرا بیٹا مرے، میری بیوی مرے مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں ۔ میں تو تیری ہی موت سے ڈرا ڈرا کرتا تھا۔ یہ شعر ہر مسلمان کے دل کی آواز تھا۔ اس کے بعد کئی دنوں تک مدینہ کی گلیوں میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مسلمان بچے یہی شعر پڑھتے پھرتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا تیرے مرنے سے ہم تو اندھے ہو گئے ۔ اب ہمارا کوئی عزیز اور قریبی رشتہ دار مرے ہمیں پرواہ نہیں ۔ ہمیں تو تیری ہی موت کا خوف تھا۔