سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 242

سيرة النبي علي الله 227 جلد 7 نے آپ کا کپڑا کھینچا اور آپ کو خاموش کرنا چاہا مگر آپ نے کپڑے کو جھٹک کر ان کے ہاتھ سے کھینچ لیا اور پھر قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ 213 یعنی اے لوگو ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اُن سے پہلے اور بہت سے رسول گزرے ہیں اور سب کے سب فوت ہو چکے ہیں کیا اگر وہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر پھر جاؤ گے؟ دین خدا کا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نہیں ۔ یہ آیت اُحد کے وقت نازل ہوئی تھی جب کہ بعض لوگ یہ سن کر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں دل چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے ۔ اس آیت کے پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا اے لوگو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَتى لَا يَمُوتُ جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی ۔ وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ اور جو کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اُس کو میں بتا دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ابوبکر نے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ والی آیت پڑھنی شروع کی تو میرے ہوش درست ہونے شروع ہوئے ۔ اس آیت کے ختم کرنے تک میری روحانی آنکھیں کھل گئیں اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں تب میرے گھٹنے کانپ گئے اور میں نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا 214 ۔ کے وہ شخص جو تلوار سے ابوبکر کو مارنا چاہتا تھا وہ اب ابوبکر کے صداقت بھرے لفظوں ساتھ خود قتل ہو گیا ۔ صحابہ کہتے ہیں اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمہ میں یہ آیت ہمیں بھول ہی گئی تھی ۔ اُس وقت حسان بن ثابت نے جو مدینہ کے ایک بہت بڑے