سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 241

ة سيرة النبي علي صلى الله 226 جلد 7 خدا کی قسم ! جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اُس کا سر اڑا دوں گا ۔ ابھی تک منافق دنیا میں باقی ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے ۔ اگر اُن کی روح جسم سے جدا ہو گئی ہے تو وہ صرف موسی کی طرح خدا کی ملاقات کے لئے گئی ہے اور پھر واپس آئے گی اور دنیا سے منافقوں کا قلع قمع کرے گی 211 ۔ یہ کہا اور تنگی تلوار لے کر اس روح فرسا خبر کے صدمہ سے مجنونوں کی طرح ادھر اُدھر ٹہلنے لگے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُسے قتل کر دوں گا ۔ صحابہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت عمرؓ کو اس طرح ٹہلتے ہوئے دیکھا تو ہمارے دلوں کو بھی ڈھارس بندھی اور ہم نے کہا عمر سچ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے ۔ ضرور اس بارہ میں لوگوں کو غلطی لگی ہے اور عمر کے قول کے ساتھ ہم ۔ ہم نے اپنے دلوں کو تسلی دینی شروع کی ۔ اتنے میں بعض لوگوں نے دوڑ کر حضرت ابوبکر کو صورت حالات سے اطلاع دی ۔ اُن سے اطلاع پا کر حضرت ابوبکر بھی مسجد میں پہنچ گئے مگر کسی سے بات نہ کی اسیدھے سید ۔ گھر میں گھس گئے اور جا کر حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ سے صلى الله علیه صلى الله فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ہاں ۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے آپ کے منہ پر سے کپڑا اٹھایا آپ کے ماتھے کو بوسہ دیا اور دو محبت کے چمکتے ہوئے آنسو آپ کی آنکھوں سے گرے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا 212 ۔ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو جائیں اور دوسری موت آپ پر یہ وارد ہو کہ آپ کی جماعت غلط عقائد اور غلط خیالوں میں مبتلا ہو جائے ۔ یہ کہہ کر آپ باہر آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ منبر کی طرف بڑھے۔ جب آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو حضرت عمر بھی تلوار کھینچ کر آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اس نیت سے کہ اگر ابو بکر نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ عروسی فوت ہو۔ ہیں تو میں ان کو قتل کر دوں گا۔ جب آپ بولنے لگے تو حضرت عمرؓ